ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / چائلڈ لیبر قانون:این سی پی سی آر کی نظر میں پہلے سے بہتر، سماجی کارکنوں نے تنقید کی

چائلڈ لیبر قانون:این سی پی سی آر کی نظر میں پہلے سے بہتر، سماجی کارکنوں نے تنقید کی

Sun, 31 Jul 2016 19:51:23    S.O. News Service

نئی دہلی، 31؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں منظور ہوئے چائلڈ لیبر مخالف ترمیمی قانون میں 14سال سے کم عمر کے بچوں کو اپنے خاندان کے کاروبار میں کام کرنے کی اجازت دئیے جانے کو لے کر سماجی تنظیموں کی جانب سے ہو رہی تنقید کے درمیان قومی حق اطفال تحفظ کمیشن(این سی پی سی آر )نے آج کہا کہ یہ ترمیم شدہ ایکٹ 1986کے قانون سے بہت بہترہے اور اگر مستقبل میں نفاذ کے بعد اس میں کوئی کمی پائی جائے گی جو وہ حکومت کو اصلاحات کے لیے مشورہ ضرور دے گا۔گزشتہ 26؍جولائی کو پارلیمنٹ میں چائلڈ لیبر مخالف قانون ترمیمی ایکٹ- 2016کو منظور کیا گیا۔اس کے مطابق 14سال سے کم عمر کا بچہ اسکول کے وقت سے پہلے یا بعد اپنے خاندان کے کاروبار میں ہاتھ بٹا سکتا ہے ۔ حقوق اطفال کے سرگرم کارکنان ایکٹ کے اسی پہلو کو لے کر تنقید کر رہے ہیں۔این سی پی سی آر کے رکن یشونت جین نے میڈیا سے کہاکہ یہ بات سچ ہے کہ 14سال سے کم عمر کے بچوں کو خاندانی کام کاج میں ہاتھ بٹانے کی چھوٹ دئیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ہمارا یہ کہنا ہے کہ یہ ایکٹ 1986کے چائلڈ لیبر مخالف قانون سے بہت بہتر ہے، اس میں کئی چیزوں کو درست کیا گیا ہے۔جین نے کہاکہ اس قانون کے نفاذ کے بعد اگر کوئی کمی نظر آتی ہے تو ہم یقینی طور پر اس میں اصلاحات کے لیے حکومت کو تجویز دیں گے۔ملک کی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے، پہلے اس کا نفاذ ہونے دیجئے۔این سی پی سی آر کے سابق رکن اورانڈین ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر یوگیش دوبے نے اس ترمیم شدہ قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ14سال سے کم عمر کے بچوں کو خاندانی کام میں لگانے کی اجازت دینا بہت ہی قابل مذمت ہے۔اب اس قانون کی کھل کر غلط استعمال ہو گا ۔حکومت نے بچہ مزدوری کو قانون کی سرپرستی فراہم کردی ہے، ہم لوگ جلد ہی اس کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کریں گے۔


Share: